Iranian Antichrist
فلسطین کے لئیے ایرانی حمایت کے پیچھے کیا ہے ۔۔؟
تحریر: ڈاکٹر لیلی حمدان
اردو ترجمہ: مائزہ خان
فلسطین کی سرزمین کسی جغرافیائی نعروں سے نہیں، بلکہ عقیدۂ توحید کی ڈھال اور سنت کے تلوار سے آزاد ہوگی۔ وہ نعرے جو صرف بینرز پر لکھے جاتے ہیں، مگر ان کے پیچھے وہ لوگ کھڑے ہوتے ہیں جن کے قلوب رافضی سازشوں سے سیاہ ہو چکے ہیں، وہ "تحریر فلسطین" کے نام پر ایک اور غلامی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ فلسطین کی آزادی صرف اس وقت ممکن ہے جب وہ لوگ اٹھیں جن کے سینے توحید کے نور سے منور ہوں، جن کے ہاتھوں میں دو تلواریں ہوں، ایک کافروں کے خلاف اور دوسری ان رافضیوں کے خلاف جو تقیہ کا پردہ اوڑھ کر امت کے پیچھے خنجر گھونپتے ہیں۔
ایران کی مزاحمت کا مفہوم دنیا کو دھوکہ دینے کے لیے ایجاد کیا گیا، تاکہ اہل سنت کو بےوقوف بنا کر ان کی نسلوں کو خاموشی سے تباہ کیا جا سکے۔ ایران جس زبان سے القدس کی بات کرتا ہے، اسی زبان سے دمشق میں بشار الاسد کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اسی زبان سے عراق میں اہل سنت کی مسجدوں کو راکھ کرتا ہے، اور یمن میں اہل توحید پر حوثیوں کی بندوقیں تانتا ہے۔ کیا یہی مزاحمت ہے؟ کیا وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو لعنت کا نشانہ بناتے ہیں، ازواجِ مطہرات پر بہتان باندھتے ہیں، اور امامت کے نام پر توحید کی دیواروں کو توڑتے ہیں، وہ قدس کے نجات دہندہ ہوں گے؟ یہ فریب ہے، ایک تاریخی دھوکہ جسے صرف وہی نہیں سمجھ سکتے جن کی آنکھوں پر قومی مفاہمت کا پردہ، اور دلوں پر دنیا پرستی کا زنگ چڑھ چکا ہے۔
اور افسوس افسوس اسی فریب نے بہت سے اسلامی جماعتوں کو شکار کیا ہے ۔ دنیا بھر میں ایسی جماعتیں موجود ہیں جو اصل میں اہل سنت والجماعت کی جماعتیں ہیں لیکن ایران کی دجل فریب اور دجالی ہتھکنڈوں نے ان کو بھی دھوکے میں ڈالا ہے۔
جیسا کہ پاکستان میں جماعت اسلامی نے ایک بہت خوب اور کھل کر ایران کی تعریفیں کی ایران کے میزائلوں کو اسلامی میزائل مان لیا اسی طرح افغانستان کے حزب اسلامی نے بھی خوب تائید کی بنگلہ دیش میں بھی ایرانی میزائلوں کو خوب سراہا گیا حالانکہ وہ میزائلیں دجل فریب اور دھوکے سے بھری ہوئی میزائلیں تھی ۔ اور انے والے وقت میں بھی ہوں گے۔
اور کتنی افسوس کی بات ہے کہ یہ سب وہ جماعتیں ہیں جو خود کو اخوان المسلمین کی فکری جماعتیں کہتی ہیں وہ ایسا نظریہ اپنائے تو اس سے بڑی افسوس کی بات اور کیا ہو سکتی ہے اخوان المسلمین کا نظریہ تو یہ بالکل بھی نہیں ہے کہ وہ کسی رافضی کی حمایت کرے ۔
الجزائر میں بھی اخوان المسلمین کے نظریے کے دعویدار جماعت وحدت القران نے ایران کی دجل و فریب کا شکار ہو کر ایران کو خوب خراج تحسین پیش کیا اور اب تک پیش کر رہے ہیں حالانکہ ایران نے اب تک کیا کیا ہے۔۔ یا تو وہ ان سے بے خبر ہے یا باخبر ہو کر بھی وہ صرف ظاہری چیزوں پہ یقین رکھتے ہیں جو کہ نہ کوئی سیاسی بصیرت ہے نہ کوئی اور وسیلہ نہ کوئی وسعت علمی۔
جو تاریخ سے نہیں سیکھتے، انہیں اللہ کی سنتیں ادب سکھاتی ہیں۔ اللہ کی سنت کبھی بدلی نہیں، وہ ہمیشہ ان قوموں کو عزت دیتا ہے جو خالص توحید کو تھامے، اور جو اسے چھوڑ دے، وہ خواہ کسی نعرے، کسی اتحاد، کسی سپر طاقت کا حصہ کیوں نہ ہو، ذلت اس کا مقدر ہے۔ فلسطین صرف اس وقت آزاد ہوگا جب دمشق کی گلیوں میں کفر اور رافضیت کا جھنڈا اترے گا،جو الحمد اللہ کافی حد تک اتر گیا ہے اور اب کوششیں شروع ہے اور ھم دنیا کو دکھائیں گے کہ فلسطین کیسے فتح ہوتا ہے ۔
جب بغداد کی گلیوں سے مجوسیت کا سایہ چھٹے گا، جب صنعاء کے آسمان سے تقیہ کے نعرے خاموش ہوں گے۔ قدس کی راہ بغداد، دمشق اور صنعاء سے ہو کر گزرتی ہے، یہ حقیقت جو نہ سمجھے، وہ فریب میں ہے۔
اور اللہ تعالیٰ فریب کے شکار ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
اللہ تعالی ایران کو اپنی پالیسیوں میں کبھی کامیاب و کامران نہ فرمائے خدانخواستہ اگر وہ مسلط ہو گئے تو فلسطین میں غلامی کا ایک اور ڈور شروع ہوگا ۔
رافضہ کے گالیاں دینا، لعنت کرنا، اور طعن کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ وہ ہمیشہ سے اہل سنت کی عزت پر حملہ آور رہے، وہی زبان جس سے وہ صحابہ کو برا کہتے ہیں، آج وہی زبان آزادی فلسطین کا راگ الاپتی ہے۔ یہ وہی منافق چہرے ہیں جنہوں نے اہل بیت کی محبت کو ہتھیار بنایا، اور تقیہ کو راہِ نفاق بنا کر امت میں داخل کیا۔
میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ میں رب کی رضا کے لیے ان پر ہر نماز فجر کے بعد لعنت کرتی ہوں،
اور ان کے مکروہ مکر کو بے نقاب کرتی ہوں، ان کی خبیث زبانوں کے جواب میں تو میں صحابہ کے جوتے کے تسمے کو بھی ان سے بہتر سمجھتی ہوں، اور وہ کبھی حضرت عائشہؓ کی خاک پا کو نہیں چھو سکتے، اگرچہ ان کی زبانوں پر تقیہ کی چادر ہو۔
اور ہاں اے مجوسیوں ، انتظار کرو، ہم بھی منتظر ہیں۔
اللہ کا نور کبھی کسی مکّار، فریب کار یا دنیا پرست منافق کو نہیں ملتا۔
اللہ اپنے نور کو اسی کے لیے خاص کرتا ہے جو توحید کے راستے میں اپنا خون بہانے کو تیار ہو۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ آج فلسطین میں بھی ایسے جوان موجود ہیں سرایا القدس اور کتائب المجاہدین کے شکل میں ۔ جو ایران کے فریب کو پہچان چکے ہیں، وہ جان چکے ہیں کہ قدس کا راستہ ایران کی مجلسوں سے نہیں، بلکہ شام کے خندقوں، عراق کے صحراؤں، اور یمن کے پہاڑوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ وہ اب اٹھ چکے ہیں، وہ اب خاموش نہیں، وہ ہر اس فتنہ کو روندنے کے لیے کھڑے ہو چکے ہیں جو توحید کے لباس میں مجوسیت کا زہر چھپائے ہوئے ہے۔
الحمدللہ کہ امت میں ایسے لوگ باقی ہیں جو خون کے بدلے دین کی حریت کو زندہ رکھتے ہیں، جو دنیا کی شکستوں سے نہیں بلکہ اللہ کے وعدوں سے جیتتے ہیں۔ اور یہی لوگ، ان شاء اللہ، فلسطین کو بھی آزاد کریں گے، بغیر ایران کے، بغیر تقیہ کے، بغیر ان منافقوں کے جو القدس کو قُم کا ضمیمہ بنانا چاہتے ہیں۔
یہ جنگ، صرف زمین کی نہیں، عقیدے کی ہے۔ اور اس میں وہی کامیاب ہوگا جو توحید کو اپنا ہتھیار بنائے، سنت کو اپنی راہ، اور صحابہ کی عزت کو اپنی بنیاد۔ یہی منہج، یہی راہ، اور یہی وعدہ ہے۔
اور اللہ خوب وعدہ نبھانے والا ہے
لیلی عمر الحمدان

Comments
Post a Comment